آن[5]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کل یا اس کا پرزہ، چالو، روبہ عمل، کھلا ہوا۔ "میں نے اپنی ٤٠ / ٤٥٠ ڈبل بیرل رائفل کی سیفٹی آن کر کے نشانہ لیا"۔      ( ١٩٧٢ء، اخبار جہاں، کراچی، ١٦ جون، ٣٤ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے اردو میں انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی آیا اور عام بول چال میں بہت زیادہ مستعمل ہو گا، آہستہ آہستہ تحریروں میں لکھا جانے لگا اور اردو میں "اخبار جہاں، کراچی" میں ١٩٧٦ء میں تحریراً ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کل یا اس کا پرزہ، چالو، روبہ عمل، کھلا ہوا۔ "میں نے اپنی ٤٠ / ٤٥٠ ڈبل بیرل رائفل کی سیفٹی آن کر کے نشانہ لیا"۔      ( ١٩٧٢ء، اخبار جہاں، کراچی، ١٦ جون، ٣٤ )